عید الاضحی 2026 میں کب ہے ؟ | Eid ul Adha Date 2026

عید الاضحی 2026 میں کب ہے ؟ | Eid ul Adha Date 2026

عيد الاضحى 2026 (eid ul adha 2026)پیارے اسلامی بھائیوں ماہِ ذی الحجہ ہجری کیلنڈر کے مطابق بارہواں اور آخری مہینہ ہے۔اس کے بعد محرم الحرام کا مہینہ اسلامی نیاسال شروع ہوتا ہے ۔عید الاضحی کی تاریخ 2026 کے حوالے سے میں آپ کو بتا دوں کہ ذی الحجہ کا چاند (zil hajj ka chand 2026) انگریزی کیلنڈر کے مطابق 18/ مئی 2026 بروز پیر کوہے۔اورعیدالاضحی(10/ذی الحجہ) گریگورین کیلنڈر کے مطابق 28/ مئی 2026 بروز جمعرات کو ہوگی۔دوستوں میں آپ کو یہ بھی بتادوں کہ  یہ فیصلہ حتمی اور یقینی ہے۔

 

عشرہ ذی الحجہ کی راتوں کی فضیلت

حدیث پاک میں عشرہ ذی الحجہ کی راتوں کی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ جس شخص نے پانچ راتیں زندہ رکھیں، اس کے لئے جنت واجب ہو گئی (۱) آٹھویں ذی الحجہ کی رات (۲) نویں ذی الحجہ کی رات (۳) عید الاضحی کی رات (۴) عید الفطر کی رات(۵) پندرہویں شعبان کی رات ۔

یعنی ان راتوں کو زندہ رکھنے والوں کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے، مطلب یہ ہے کہ جولوگ ان راتوں میں بیدار رہ کر عبادت اور ذکر الہی میں لگے رہیں گے، اللہ تعالی ان پر اپنا خاص فضل و کرم فرمائیں گے، کہ انہیں جنت کی دولت سے سرفراز فرمائیں گے۔

حضرت ابو امامہ نبی کریمؐ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا کہ جس شخص نے دو عیدوں کی راتوں میں ثواب کی نیت سے عبادت کی ، اس کا دل اس دن نہیں مرے گا جس دن لوگوں کے دل مردہ ہو جائیں گے۔

ان احادیث سے عشرہ ذی الحجہ کی راتوں میں اور بالخصوص عید الاضحیٰ کی رات میں عبادت کرنے کی بڑی فضیلت معلوم ہوئی ، اس لئے ہرگز ان راتوں کو غفلت میں نہیں گزارنا چاہئے ۔ اگر پوری پوری رات جاگنے کی طاقت یا ہمت نہ ہو تو

رات کے اکثر حصہ میں جاگے اور اگر اتنا بھی نہ ہو سکے تو کم از کم عشاء اور فجر کی نماز جماعت سے ادا کرنے کا اہتمام کرے، ” حدیث شریف میں آیا ہے کہ یہ بھی رات بھر جاگنے کے حکم میں ہے“

قربانی کرنا کس پر واجب ہے؟

رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص قربانی کی گنجائش رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔

 قربانی ہر اس شخص پر واجب ہے، جو قربانی کے دِنوں میں صاحب نصاب ہو، قربانی واجب ہونے کے لیے مال پر سال گزرنا ضروری نہیں ہے

صاحب نصاب کا کیا مطلب؟ یعنی جس کے پاس ۸۷/ گرام ۱۴۸۰ ملی گرام سونا ہو ۔ 

یا جس کے پاس ۶۱۲ / گرام ۳۶۰ ملی گرام چاندی ہو۔ 

یا جس کے پاس کچھ سونا اور کچھ چاندی ہو اور وہ دونوں ملاکر چاندی کے نصاب کی قیمت (تقریباً ۴۵۳۲۰) کو پہنچ جائے۔ 

یا جس کے پاس کچھ سونا اور کچھ ذاتی رقم موجود ہو اور وہ دونوں ملا کر چاندی کے نصاب کی قیمت (تقریباً ۴۵۳۲۰) کو پہنچ جائے۔ 

یا جس کے پاس کچھ چاندی اور کچھ ذاتی رقم موجود ہو اور وہ دونوں ملا کر چاندی کے نصاب کی قیمت (تقریباً ۴۵۳۲۰) کو پہنچ جائے۔ 

یا جس کے پاس چاندی کے نصاب کی قیمت (تقریباً۴۵۳۲۰) کے برابر روپے پیسے یا ضرورت سے زائد سامان یا مال تجارت ہو۔ 

ان تمام شکلوں میں اگر کوئی اس قدر مال کا مالک ہے، تو وہ صاحب نصاب ہے اور اس پر قربانی واجب ہے۔ 

اللہ ہمیں ان تمام باتوں پر عمل کی توفیق عطاء فرمائے۔

اسلامی نیا سال کا بہترین پیغام پڑھیے

Leave a Comment