شب معراج کا واقعہ – Shab e Meraj ka Waqia in Urdu

شب معراج کا واقعہ – Shab e Meraj ka Waqia in Urdu

شب معراج کا واقعہ: پیارے اسلامی بھائیوں ہم شب معراج پر ایک بہترین مضمون تیار کرنا چاہتے ہیں جو ابھی تک نہیں ہوا ہے اس لیے نیچے دوسرے مختلف مضامین ڈالے گئے ہیں، اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔

شب معراج کا واقعہ – Shab e Meraj Ka Waqia in Urdu

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِين وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ الْكَرِيمِ وَعَلَى الِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ، اما بعد

واقعہ معراج کب ہوا؟ 

واقعہ معراج کب ہوا:معراج کے واقعہ کی تاریخ اور سال کے متعلق، مؤرخین اور اہل سیر کی رائے مختلف ہیں، ان میں سے ایک رائے یہ ہے کہ نبوت کے بارہویں سال ۲۷ رجب کو ا۵ سال ۵ مہینہ کی عمر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی ، جیسا کہ علامہ قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب “مہر نبوت ” میں تحریر فرمایا ہے۔اسرا اور معراج میں فرق،

اسراء کا معنی

اسراء کے معنی رات کو لے جانے کے ہیں۔ مسجد حرام ( مکہ مکرمہ ) سے مسجد اقصیٰ کا سفر جس کا تذکرہ سورۃ بنی اسرائیل سُبْحَانَ الَّذِي أسرى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الاقصیٰ میں کیا گیا ہے، اس کو اسراء کہتے ہیں۔ اور یہاں سے جو سفر آسمانوں کی طرف ہوا اس کا نام معراج ہے،

معراج کا معنی

معراج عروج سے نکلا ہے جس کے معنی چڑھنے کے ہیں۔ حدیث میں “عرج بی ” یعنی مجھ کو اوپر چڑھایا گیا کا لفظ استعمال ہوا ہے ، اس لئے اس سفر کا نام معراج ہو گیا۔ اس مقدس واقعہ کو اسراء اور معراج دونوں ناموں سے یاد کیا جاتاہے۔

اس واقعہ کا ذکر سورہ نجم کی آیات میں بھی ہے: ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى، فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى، فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى ترجمہ: پھر وہ قریب آیا اور جھک پڑا، یہاں تک کہ وہ دو کمانوں کے فاصلے کے برابر قریب آ گیا، بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک ، اس طرح اللہ کو اپنے بندے پر جوتی نازل فرمائی تھی ، وہ نازل فرمائی۔

معراج میں کیا کیا دیکھا؟

سورۃ النجم کی آیات ۱۳۔۱۸ میں وضاحت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں: وَلَقَدْ رَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى عِندَ سِدْرَةَ الْمُنتَهى عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأوى، إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى لَقَدْ رَاى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الکبری۔ ترجمہ: اور حقیقت یہ ہے انہوں نے اس (فرشتے) کو ایک اور مرتبہ دیکھا ہے۔ اس بیر کے درخت کے پاس جس کا نام سورۃ المنتہی ہے ، اس کے پاس جنت الماوئی ہے، اس وقت اس بیر کے درخت پر وہ چیزیں چھائی ہوئی تھیں جو بھی اس پر چھائی ہوئی تھیں۔ ( نبی کی ) آنکھ نہ تو چکرائی اور نہ حد سے آگے بڑھی، سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بہت کچھ دیکھاہے۔

احادیث متواترہ سے ثابت ہے، یعنی صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی ایک بڑی تعداد سے معراج کے واقعہ سے متعلق احادیث مروی ہیں۔

معراج میں کتنا وقت لگا

انسانی تاریخ کا سب سے لمبا سفر:قرآن کریم اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ اسراء ومعراج کا تمام سفر صرف روحانی نہیں بلکہ جسمانی تھا، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سفر کوئی خواب نہیں تھا بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا۔ یہ ایک معجزہ تھا کہ مختلف مراحل سے گزر کر اتنا بڑا اسفر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے صرف رات کے ایک حصہ میں مکمل کر دیا۔

اللہ تعالیٰ جو اس پوری کائنات کا پیدا کرنے والا ہے، اس کے لئے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے، کیونکہ وہ تو قادر مطلق ہے، جو چاہتا ہے کرتا ہے، اس کے تو ارادہ کرنے پر چیز کا وجود ہوجاتا ہے۔ معراج کا واقعہ پوری انسانی تاریخ کا ایک ایسا عظیم، مبارک اور بے نظیر مجزہ ہے جس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ خالق کائنات نے اپنے محبوب نہ کو دعوت دے کر اپنا مہمان بنانے کا وہ شرف عظیم عطافرمایا جو نہ کسی انسان کو بھی حاصل ہوا ہے اور نہ کسی مقرب ترین فرشتے کو ۔

واقعہ معراج کا مقصد

واقعہ معراج کے مقاصد میں جو سب سے مختصر اور عظیم بات قرآن کریم (سورہ بنی اسرائیل ) میں ذکر کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم ( اللہ تعالی ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کچھ نشانیاں دکھلائیں۔۔۔ اس کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ عظیم الشان مقام و مرتبہ دینا ہے جو کسی بھی بشر حتی کہ کسی مقرب ترین فرشتہ کو نہیں ملا ہے اور نہ ملے گا۔ نیز اس کے مقاصد میں امت مسلمہ کو یہ پیغام دینا ہے کہ نماز ایسا مہتم بالشان عمل اور عظیم عبادت ہے کہ اس کی فرضیت کا اعلان زمین پر نہیں بلکہ ساتوں آسمانوں کے اوپر بلند واعلیٰ مقام پر معراج کی رات میں ہوا۔

نیز اس کا حکم حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچا بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرضیت نماز کا تحفہ بذات خود اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا۔ نماز اللہ جل شانہ سے تعلق قائم کرنے اور اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کو مانگنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ نماز میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے مناجات ہوتی ہے۔

واقعۂ معراج کی مختصرتفصیل

اس واقعہ کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سونے کا طشت لایا گیا جو حکمت اور ایمان سے پر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ چاک کیا گیا، پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا گیا، پھر اسے حکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا اور پھر بجلی کی رفتار سے زیادہ تیز چلنے والی ایک سواری یعنی براق لایا گیا جو لمبا سفید رنگ کا چو پایا تھا، اس کا قد گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں تک اس کی نظر پڑتی تھی ۔ اس پر سوار کر کے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس لے جایا گیا اور وہاں تمام انبیاء کرام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھی۔پھر آسمانوں کی طرف لے جایا گیا۔

معراج میں انبیاء سے ملاقات

پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام، دوسرے آسمان پر حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت یحیی علیہ السلام، تیسرے آسمان پر حضرت یوسف علیہ السلام، چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام، پانچویں آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام، چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد البیت المعمور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کر دیا گیا جہاں روزانہ ستر ہزار فرشتے اللہ کی عبادت کے لئے داخل ہوتے ہیں جو دوبارہ اس میں لوٹ کر نہیں آتے۔

پھر آپ کو سدرۃ المنتہی تک لے جایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اس کے پتے اتنے بڑے ہیں جیسے ہاتھی کے کان ہوں اور اس کے پھل اتنے بڑے بڑے ہیں جیسے مٹکے ہوں ۔ جب سدرۃ المنتہی کو اللہ کے حکم سے ڈھانکنے والی چیزوں نے ڈھانک لیا تو اس کا حال بدل گیا، اللہ کی کسی بھی مخلوق میں اتنی طاقت نہیں کہ اس کے حسن کو بیان کر سکے۔ سدرۃ المنتہی کی جڑ میں چار نہریں نظر آئیں، دو باطنی نہریں اور دو ظاہری نہریں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دریافت کرنے پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بتایا کہ باطنی دو نہریں جنت کی نہریں ہیں اور ظاہری دو نہریں فرات اور نیل ہیں ( فرات عراق اور نیل مصر میں ہے )۔

نماز کی فرضیت

اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان چیزوں کی وحی فرمائی جن کی وحی اس وقت فرمانا تھا اور پچاس نمازیں فرض کیں ۔ واپسی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کہنے پر حضور اکرم علی چند مرتبہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوئے اور نماز کی تخفیف کی درخواست کی۔ ہر مرتبہ پانچ نمازیں معاف کر دی گئیں یہاں تک کہ صرف پانچ نمازیں رہ گئیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پر بھی مزید تخفیف کی بات کہی، لیکن اس کے بعد حضور اکرم اللہ نے کہا کہ مجھے اس سے زیادہ تخفیف کا سوال کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے اور میں اللہ کے اس حکم کو تسلیم کرتا ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ندادی گئی: “ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ ” کہ میرے پاس بات بدلی نہیں جاتی ہے یعنی میں نے اپنے فریضہ کا حکم باقی رکھا اور اپنے بندوں سے تخفیف کردی اور میں ایک نیکی کا بدلہ دس بنا کر دیتا ہوں۔ غرضیکہ ادا کرنے میں پانچ ہیں اور ثواب میں پچاس ہی ہیں۔

نماز کی فرضیت کے علاوہ دیگر دو انعام

اس موقعہ پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ سے انسان کا رشتہ جوڑنے کا سب سے اہم ذریعہ یعنی نماز کی فرضیت کا تحفہ ملا اور حضور ا کرم ہے کا اپنی امت کی فکر اور اللہ کے فضل و کرم کی وجہ سے پانچی نماز کی ادائیگی پر پچاس نمازوں کا ثواب دیا جائے گا۔

سورۃ البقرہ کی آخری آیت (آمَنَ الرَّسُولُ سے لے کر آخر تک) عنایت فرمائی گئی)

اس قانون کا اعلان کیا گیا کہ حضور اکرم علیہ کے امتیوں کے شرک کے علاوہ تمام گناہوں کی معافی ممکن ہے یعنی کبیرہ گناہوں کی وجہ سے ہمیشہ عذاب میں نہیں رہیں گے بلکہ تو بہ سے معاف ہو جائیں گے یا عذاب بھگت کر چھٹکارامل جائے گا، البتہ کافر اور مشرک ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

معراج میں دیدار الہی

زمانہ قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج میں دیدار خداوندی سے مشرف ہوئے یا نہیں اور اگر رؤیت ہوئی تو وہ رؤیت بصری تھی یا رویت قلبی تھی ، البتہ ہمارے لئے اتنا مان لینا انشاء اللہ کافی ہے کہ یہ واقعہ برحق ہے، یہ واقعہ رات کے صرف ایک حصہ میں ہوا، نیز بیداری کی حالت میں ہوا ہے اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ایک بڑا معجزہ ہے۔

قریش کی تکذیب اور ان پر حجت قائم ہونا

رات کے صرف ایک حصہ میں مکہ مکرمہ سے بیت المقدس جانا، انبیاء کرام کی امامت میں وہاں نماز پڑھنا، پھر وہاں سے آسمانوں تک تشریف لے جانا، انبیاء کرام سے ملاقات اور پھر اللہ جل شانہ کی دربار میں حاضری ، جنت و دوزخ کود یکھنا، مکہ مکرمہ تک واپس آنا اور واپسی پر قریش کے ایک تجارتی قافلہ سے ملاقات ہونا جو ملک شام سے واپس آرہا تھا۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کو معراج کا واقعہ بیان کیا تو قریش تعجب کرنے لگے اور جھٹلانے لگے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر انہوں نے یہ بات کہی ہے تو سچ فرمایا ہے۔ اس پر قریش کے لوگ کہنے لگے کہ کیا تم اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو اس سے بھی زیادہ عجیب باتوں کی تصدیق کرتا ہوں اور وہ یہ کہ آسمانوں سے آپ کے پاس خبر آتی ہے۔ اسی وجہ سے ان کا لقب صدیق پڑ گیا۔ اس کے بعد جب قریش مکہ کی جانب سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیت المقدس کے احوال دریافت کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیت المقدس کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے روشن فرما دیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حطیم میں تشریف فرما تھے۔ قریش مکہ سوال کرتے جا رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیتے جارہے تھے۔

سفر معراج کے بعض مشاہدات

اس اہم وعظیم سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت و دوزخ کے مشاہدہ کے ساتھ مختلف گناہگاروں کے احوال بھی دکھائے گئے جن میں سے بعض گناہگاروں کے احوال اس جذ بہ سے تحریر کر رہا ہوں کہ ان گناہوں سے ہم خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچنے کی ترغیب دیں۔

کچھ لوگ اپنے سینوں کو ناخنوں سے چھیل رہے تھے

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس رات مجھے معراج کرائی گئی میں ایسے لوگوں پر گزرا جن کے ناخون تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہروں اور سینوں کو چھیل رہے تھے۔ میں نے جبرئیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے ہیں ( یعنی ان کی غیبت کرتے ہیں ) اور ان کی بے آبروئی کرنے میں پڑے رہتے ہیں ۔ (ابوداود)

سود خوروں کی بد حالی

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس رات مجھے سیر کرائی گئی میں ایسے لوگوں پر بھی گزرا جن کے پیٹ اتنے بڑے بڑے تھے جیسے (انسانوں کے رہنے کے ) گھر ہوتے ہیں ان میں سانپ تھے جو باہر سے ان کے پیٹوں میں نظر آرہے تھے۔ میں نے کہا کہ اے جبرئیل ! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا یہ سود کھانے والے ہیں۔ (مشکوۃ المصابیح)

کچھ لوگوں کے سر پتھروں سے کچلے جارہے تھے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا جن کے سر پتھروں سے کچلے جارہے تھے، کچل جانے کے بعد پھر ویسے ہی ہو جاتے تھے جیسے پہلے تھے۔ اس طرح یہ سلسلہ جاری تھا ختم نہیں ہورہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھایہ کون لوگ ہیں؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ لوگ نماز میں کاہلی کرنے والے ہیں۔ (انوار السراج فی ذکر الاسراء والمعراج – شیخ مفتی عاشق الہی)

زکوة نہ دینے کا وبال

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا جن کی شرمگاہوں پر آگے اور پیچھے چیتھڑے لیٹے ہوئے ہیں اور اونٹ وہیل کی طرح چرتے ہیں اور کانٹے دار وخبیث درخت اور جہنم کے پتھر کھا رہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کی زکاۃ ادا نہیں کرتے ہیں۔ (انوار السراج فی ذکر الاسراء والمعراج شیخ مفتی عاشق الہی)

سڑا ہوا گوشت کھانے والے لوگ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا جن کے سامنے ایک ہانڈی میں پکا ہوا گوشت ہے اور ایک ہانڈی میں کچا اور سڑا ہوا گوشت رکھا ہے، یہ لوگ سڑا ہوا گوشت کھا رہے ہیں اور پکا ہوا گوشت نہیں کھا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس حلال اور طیب عورت موجود ہے مگر وہ زانیہ اور فاحشہ عورت کے ساتھ شب باشی کرتے ہیں اور صبح تک اسی کے ساتھ رہتے ہیں اور وہ عورتیں ہیں جو حلال اور طیب شوہر کو چھوڑ کر کسی زانی اور بدکار شخص کے ساتھ رات گزارتی ہیں۔ (انوار السراج فی ذکر الاسراء والمعراج شیخ مفتی عاشق الہی)

سدرۃ المنتہیٰ کیا ہے؟

احادیث مبارکہ اور قرآن کریم میں سدرۃالمنتہی استعمال ہوا ہے۔ سدرۃ کے معنی بیر کے ہیں اور منتہی کے معنی انتہا ہونے کی جگہ کے ہیں۔ اس درخت کا یہ نام رکھنے کی وجہ صحیح مسلم میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ ملے نے ارشاد فرمایا کہ اوپر سے جو احکام نازل ہوتے ہیں وہ اسی پر منتہی ہو جاتے ہیں اور جو بندوں کے اعمال نیچے سے اوپر جاتے ہیں وہ وہاں پر ٹھہر جاتے ہیں، یعنی آنے والے احکام پہلے وہاں آتے ہیں پھر وہاں سے نازل ہوتے ہیں اور نیچے سے جانے والے جو اعمال ہیں وہ وہاں ٹھہر جاتے ہیں پھر اوپر اٹھائے جاتے ہیں۔

۲۷ رجب شب معراج میں عبادت کا حکم

واقعہ معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق کوئی خاص عبادت ہر سال ہمارے لئے مسنون یا ضروری نہیں ہے۔ تاریخ کے اس بے مثال واقعہ کو بیان کرنے کا اہم مقصد یہ ہے کہ ہم اس عظیم الشان واقعہ کی کسی حد تک تفصیلات سے واقف ہوں اور ہم ان گناہوں سے بچیں جن کے ارتکاب کرنے والوں کا برا انجام نبی اکرم اللہ نے اس سفر میں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور پھر امت کو بیان فرمایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے اور دونوں جہاں کی کامیابی و کامرانی عطا فرمائے۔ آمین ۔

شب معراج کا وقت کب سے کب تک ہے؟

 

Leave a Comment