اسلامی تاریخ آج کی سعودی عرب – Saudi Arabia Islamic Date Today

اسلامی تاریخ آج کی سعودی عرب – Saudi Arabia Islamic Date Today

ہجری کیلنڈرکے آنے والے دنوں کی تاریخ انگریزی مہینے کی تاریخ کے ساتھ سعودی عرب  کے حساب سے نیچے درج کی گئی ہے۔ 

01/ ذی القعدہ ۔ 09/ مئی

02/ ذی القعدہ۔ 10/ مئی

03/ ذی القعدہ۔ 11/ مئی

04/ ذی القعدہ ۔ 12/ مئی

05/ ذی القعدہ۔ 13/ مئی

06/ ذی القعدہ ۔ 14/ مئی

07/ ذی القعدہ ۔ 15/ مئی

08/ ذی القعدہ ۔ 16/ مئی

09/ ذی القعدہ ۔ 17/ مئی

10/ ذی القعدہ ۔ 18/ مئی

11/ ذی القعدہ۔ 16/ مئی

12/ ذی القعدہ ۔ 20/ مئی

13/ ذی القعدہ ۔ 21/ مئی

14/ ذی القعدہ۔ 22/ مئی

15/ ذی القعدہ ۔ 23/ مئی

16/ ذی القعدہ ۔ 24/ مئی

17/ ذی القعدہ ۔ 25/ مئی

18/ ذی القعدہ۔ 26/ مئی

19/ ذی القعدہ ۔ 27/ مئی

20/ ذی القعدہ ۔ 28/ مئی

21/ ذی القعدہ ۔ 29/ مئی

22/ ذی القعدہ ۔ 30/ مئی

23/ ذی القعدہ۔ 31/ مئی

24/ ذی القعدہ ۔ 01/ جون

25/ ذی القعدہ ۔ 02/ جون

26/ ذی القعدہ ۔ 03/ جون

27/ ذی القعدہ ۔ 04/ جون

28/ ذی القعدہ ۔ 05/ جون

29/ ذی القعدہ۔ 06/ جون

30/ ذی القعدہ۔ 07/ جون

01/ ذی الحجہ۔ 08/جون

اخلاص اور بصیرت کاش یہ دولت ہمیں نصیب ہوجائے ! 

معتبر کتابوں اور حوالوں سے اس واقعہ کا ذکر کررہا ہوں،کہ سر سید احمد خاں مرحوم علی گڑھ کالج کے تعاون لیے ( جو بعد میں جو دنیا کی ایک عظیم یونیورسٹی بنی اور جس نے قوم و ملت کو بہت ہی فائدہ پہنچایا، اور پہنچا رہا ہے، اورجس کے احسان کو مسلمان اور برادران وطن بھی کبھی فراموش نہیں کرسکتے) ایک موقع پر ایک صاحب خیر کے پاس گئے کہ وہ اس کالج اور دانش گاہ کے لیے مالی امداد اور تعاون کریں، اسی ادارہ کے لیے اس کے سامنے سر سید مرحوم نے دست سوال دراز کیا، وہ شخص علماء اور اہل علم کی صحبت میں رہتا تھا،اس لئے سرسید احمد خان مرحوم کے تعلیمی اور فکری نظریہ سے اختلاف رکھتا تھا اور ان سے متنفر تھا، اس نے سر سید مرحوم کے ہاتھ پر تھوک دیا، سرسید مرحوم نہ طیش میں آئے اور نہ غصہ ہوئے، بلکہ قوم و ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنے جذبات پر قابو رکھا، غصہ پر صبر کیا اور بہت شگفتگی اور نرمی کے ساتھ کہا کہ آپ نے اپنا کام تو کر لیا،اب میرا بھی کام کردیجئے، وہ شخص سرسید مرحوم کے اس جواب، رد عمل اور سلوک سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر ایک خطیر رقم سےسرسید احمد خان مرحوم کا ادارہ کے لیے تعاون کیا ، اور اسے یہ یقین ہوگیا کہ یہ شخص قوم ملت کے لیے مخلص وفادار ہے اور صاحب بصیرت بھی ہے، نیز قوم کا ہمدرد پاسبان، اور بہی خواہ ہے۔ 

دوستو! اس واقعہ سے پتہ چلا کہ اخلاص اور بصیرت انسان کے لیے بہت ہی ضروری ہے، اس کے بغیر دینی اور دنیاوی کسی طرح کی کامیابی ممکن نہیں ہے۔ 

اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ اخلاص کا اثر انسان کے ظاہر و باطن کے اعمال پر پڑتا ہے، اس سے عبادت میں روحانیت، علم میں برکت و نور، تعلیم و تدریس میں قوت و تاثیر ، وعظ و ارشاد میں اثر، تبلیغ و دعوت میں قبولیت، تصنیف و تالیف میں مقبولیت، جماعتی و تنظیمی کوششوں میں نتیجہ خیزی و کامیابی، تعلقات میں استواری، جماعتوں میں اتحاد اور افراد و اشخاص میں ایثار و محبت پیدا ہوتی ہے، ہر طرح کی غلط فہمی، ضعف و انتشار اور کشمکش کا خاتمہ ہوتا ہے، اخلاص اور دلسوزی کے نتیجے میں انسان کا دل نرم اور موم ہوجاتا ہے، قلب بدل جاتا ہے اور منفی حالات مثبت حالات میں بدل جاتے ہیں، انسان کے لیے جتنا مخلص ہونا ضروری ہے اتنا ہی صاحب بصیرت ہونا بھی ضروری ہے، دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ 

غرض ایک کامل مومن اور سچے پکے مسلمان کی دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لئے اخلاص اور بصیرت دونوں ضروری اور لازمی (اوصاف) ہیں ۔ اگر انسان ان دونوں یا ان میں سے ایک وصف سے بھی خالی اور عاری ہے، تو اس کے لئے دنیاوی اور اخروی کامیابی حاصل کرنا بہت مشکل اور دشوار ہوجاتا ہے ۔ 

اخلاص اور بصیرت کی ضرورت انفرادی زندگی میں بھی ہے اور اجتماعی زندگی میں بھی، بلکہ انفرادی زندگی کے مقابلے میں اجتماعی زندگی کے لئے تو یہ دونوں اور بھی ناگزیر ہیں ۔ 

زندگی کے ہر شعبے، ہر موڑ اور گوشے میں اخلاص اور بصیرت کی ضرورت ہے ۔ دین اسلام اور  شریعت حقہ میں اخلاص اور بصیرت دونوں کی اہمیت ہے،قرآن مجید میں اخلاص کا معیار ابتغاء رضوان اللہ بتایا گیا ہے، یعنی ہر حال میں اور تمام مواقع پر صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے کام کرنا ،کسی اور کا غرض اور مقصد اس میں شامل اور داخل نہ ہو ۔ بعض اہل علم نے اخلاص کی تعریف یوں کی ہے : قلب کو تمام آمیزشوں اور آلائشوں ،خواہ کم ہو زیادہ اس سے پاک کرنے کا نام اخلاص  ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی کے تقرب کے قصد کے علاوہ کوئی اور باعث نہ رہ جائے ۔ کسی نے اخلاص کی تعریف بایں طور کی ہے کہ بندہ کا خالق کی طرف دوام نظر کرکے مخلوق کی طرف نظر اٹھانے کو بھول جانا اخلاص ہے ، قرآن مجید میں متعدد آیتیں اور بے شمار احادیث ہیں، جس سے اخلاص کی ضرورت، حقیقت اور واقعیت پر روشنی پڑتی ہے۔ 

اور جہاں تک بصیرت کی تعریف اور ڈیفنشن ہے تو وہ یہ ہے کہ آدمی حالات زمانہ سے واقف ہو ،جیسا کہ حدیث میں آیا ہے : *ان یکون بصیرا بزمانه* یعنی مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر زمانی بصیرت و فراست پیدا کرے ۔ بصیرت یہ ہے کہ آدمی نتیجہ خیز میدان میں اپنی کوشش اور محنت صرف کرے اور اس کے برعکس بے بصیرتی یہ ہے کہ وہ ایسے میدان میں کود جائے اور چھلانگ لگا دے، جس میدان کے اونچ نیچ اور نشیب و فراز سے وہ واقف نہ ہو ۔ اور جس میدان میں کوئی مثبت، مفید، کار آمد اور اطمنان بخش نتیجہ نکلنے والا ہی نہ ہو ۔

اخلاص اور بصیرت باہم ایک دوسرے سے مربوط اور جڑے ہوئے ہیں یہ دونوں باہم لازم و ملزوم ہیں ۔ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے اگر معاملہ صرف آدمی کی اپنی ذات سے ہو ،تو اقدام کے لئے صرف اخلاص کافی ہوسکتا ہے ۔ لیکن اگر معاملے کا تعلق اجتماعیت اور اجتماعی احوال و کوائف سے ہو ،تو اخلاص کے ساتھ بصیرت بھی لازمی طور پر ضروری ہے ۔ اس کی حقیقت اور گہرائی ہم اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ایک آدمی اگر کامل و مکمل اخلاص کے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح کسی شخص سے کردے اور وہ ناکام ہوجائے ،تو اس کا نقصان آدمی کو خود اٹھانا پرتا ہے ۔ اس قسم کی غلطی سے کوئی عمومی فساد  اور انتشار واقع نہیں ہوتا ۔ ایسا آدمی قابل معافی قرار پائے گا، اس کو قابل سزا قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ 

 لیکن ایک ملی رہنما ،قائد اور داعی و مبلغ  کے لئے یہ معیار کافی اور مکمل نہیں ۔ کوئی رہنما اور قائد جب کوئی تحریک چلاتا ہے، کسی قافلے کی حدی خوانی کرتا ہے، کسی کارواں کا وہ میر کارواں اور روح رواں ہوتا ہے، اور وہ جب کوئی عملی اقدام کرتا ہے، تو اس کا تعلق اور رشتہ ہزاروں لاکھوں بلکہ بسا اوقات کروڑوں انسانوں سے ہوتا ہے ۔ اگر اس کی تحریک درست نہ ہو ،یا اس کا اقدام ایک غلط اقدام ہو تو ایسی صورت میں اس کی غلط تحریک، یا اس کے غلط اقدام و پیش قدمی اور تحریر و تقریر کا نقصان پوری امت اور نسل کو بھگتنا پڑ تا ہے ۔ اس لئے جو شخص اجتماعی قیادت کے میدان میں داخل ہو، اس کے لئے اور قافلہ کی سالاری کے لئے صرف اخلاص کافی نہیں ہے، اس کے لئے لازم و ضروری ہے کہ وہ بصیرت زمانہ کا حامل ہو۔ اگر وہ بصیرت زمانہ کا حامل نہیں ہے، تو اس کے لئے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ وہ اس طرح کا اقدام خدا کے واسطے نہ کرے۔ اس کی بے عملی کا کم سے کم فائدہ یہ ہوگا کہ لوگ اس کی غلط تحریک اور اقدام کے ضرر اور نقصانات سے بچ جائیں گے ۔ اگر آپ اپنی ذات سے دوسروں کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے ،تو کم از کم ان کو اپنے ضرر و نقصان سے ضرور بچائیے ۔ دوسروں کو اپنے نقصان سے بچانا بھی ایک کام بلکہ ایک طرح کی نیکی اور صدقہ ہے ۔ اسی عظیم حکمت کو حدیث شریف میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : *ان لم تنفعه فلا تضره*

 اجتماعی، تنظیمی اور دعوتی کاموں میں تو بصیرت و فراست اور حکمت کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے اسی لئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اللہ تعالی نے قرآن مجید میں خاص طور پر اس جانب اشارہ کیا ہے ۔ ارشاد ربانی ہے :

قل ھذہ سبیلی ادعو الی اللہ علی بصیرة انا ومن اتبعنی و سبحان اللہ وما انا من المشرکین

کہہ دے یہ میری راہ ہے بلاتا ہوں اللہ کی طرف، سمجھ بوجھ کر میں اور جو میرے ساتھ ہے،اور اللہ پاک ہے اور میں نہیں شریک بنانے والوں میں ۔ 

قارئین محترم! آج جب کہ حق اور ناحق میں امتیاز و فرق کرنا اکثر جگہ مشکل اور دشوار  ہے ۔ ہر ایک کو اپنے ہی کو حق ثابت کرنے کی فکر اور ہوڑ ہے ،بہت سی جگہ حق اور ناحق صحیح اور غلط میں اشتباہ اور گڈ مڈ ہے، ایسے حالات میں انتہائی سخت ضرورت ہے کہ دربار ایزدی میں رو رو کر اخلاص اور بصیرت کے لئے دعا مانگیں تاکہ ہم خدا کی خوشنودی حاصل کرسکیں اور حق اور ناحق کو سمجھ سکیں اور اس میں فرق کرسکیں ۔حالات کو سمجھ سکیں۔دشمنوں کے مکر و فریب کو جان سکیں،ان کے فتنوں سے بچ سکیں،اللہ تعالٰی ہم سب کو اخلاص اور  بصارت و بصیرت دونوں سے نوازے آمین ۔