آج کی چاند کی تاریخ کیا ہے – Aaj ki Chand Ki Tarikh Kya Hai

آج کی چاند کی تاریخ کیا ہے – Aaj ki Chand Ki Tarikh Kya Hai

آج کی چاند کی تاریخ کیا ہے؟ (Aaj ki Chand Ki Tarikh Kya Hai) جانیےصحیح صحیح اس پوسٹ میں۔ پیارے اسلامی بھائیوں  میں آپ کو بتادوں کہ نیچے لکھے گئے ہجری اور عیسوی تاریخیں ہر مہینے علمائے کرام کی نگرانی میں اپڈیٹ کی جاتی ہے۔

آج کی چاند کی تاریخ کیا ہے

ہجری کیلنڈرکے آنے والے دنوں کی تاریخ انگریزی مہینے کی تاریخ کے ساتھ  نیچے بیان کی گئی ہے۔ 

01/ ذی القعدہ ۔ 10/ مئی

02/ ذی القعدہ۔ 11/ مئی

03/ ذی القعدہ۔ 12/ مئی

04/ ذی القعدہ ۔ 13/ مئی

05/ ذی القعدہ۔ 14/ مئی

06/ ذی القعدہ ۔ 15/ مئی

07/ ذی القعدہ ۔ 16/ مئی

08/ ذی القعدہ ۔ 17/ مئی

09/ ذی القعدہ ۔ 18/ مئی

10/ ذی القعدہ ۔ 19/ مئی

11/ ذی القعدہ۔ 20/ مئی

12/ ذی القعدہ ۔ 21/ مئی

13/ ذی القعدہ ۔ 22/ مئی

14/ ذی القعدہ۔ 23/ مئی

15/ ذی القعدہ ۔ 24/ مئی

16/ ذی القعدہ ۔ 25/ مئی

17/ ذی القعدہ ۔ 26/ مئی

18/ ذی القعدہ۔ 27/ مئی

19/ ذی القعدہ ۔ 28/ مئی

20/ ذی القعدہ ۔ 29/ مئی

21/ ذی القعدہ ۔ 30/ مئی

22/ ذی القعدہ ۔ 31/ مئی

23/ ذی القعدہ۔ 01/ جون

24/ ذی القعدہ ۔ 02/ جون

25/ ذی القعدہ ۔ 03/ جون

26/ ذی القعدہ ۔ 04/ جون

27/ ذی القعدہ ۔ 05/ جون

28/ ذی القعدہ ۔ 06/ جون

29/ ذی القعدہ۔ 07/ جون

30/ ذی القعدہ۔ 08/ جون

01/ ذی الحجہ۔ 09/ جون

Islamic Calendar 2024 Download

 

Islamic Quiz Competition 2024

آن لائن اسلامی کویز مقابلہ  میں  ابھی حصہ لینے کے لیے نیچے کلک  کے بٹن پر کلک کیجے۔

Click Here

امتحان اور طالب علم

امتحان ایک ایسا وقت ہوتا ہے جس میں بڑوں سے لیکر چھوٹوں تک بچوں سے لیکر بوڑھوں تک ہر شخص حواس باختہ ہو جاتا ہے ، اور کیوں نہ  ہو؟ اسی وقت تو انسان کے ناقص و کامل ہونے کا پتہ چلتا ہے ، اسی وقت انسان کی عزت و احترام اور ذلت و رسوائی کا علم آشکارا ہوتا ہے، 

امتحان سے گزرے بغیر چارہ کار نہیں، ہر شخص امتحان سے گزر رہا ہے ،

حاکم اپنے محکوم  کے تںٔیں امتحان میں ہے ،باپ اپنی اولاد کی تںٔیں استاد اپنے شاگرد کے تعلق سے، بڑا اپنے چھوٹے کے تںٔیں، چھوٹا اپنے بڑے کے تعلق سے، الغرض اس دنیائے فانی میں جس نے بھی آنکھیں کھولیں ہیں وہ امتحان سے گزر رہا ہے ، انسان کو مکمل بنانے اور سنوارنے کے لئے امتحان سے زیادہ کوئی بھی چیز پر اثر نہیں ہے ، امتحان مثل اکسیر ہے ، ایک تریاق ہے ، بہت مشہور مثل ہے:

سرخ رو ہوتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعد

امتحان کیا ہے، ایک ٹھوکر ہے ، خود کو سنوارنے، سنبھالنے کا حسین ذریعہ ہے۔

امتحان کی تاریخ روز اول سے ہے

انسان کی تخلیق کے وقت بھی فرشتوں کو امتحان سے گزرنا پڑا،جس نے خود کو اس امتحان اول  میں سنبھال رکھا عزت و سرخ روںٔی اس کا مقدر بنی، اور جس نے  خود پسندی و خود اعتمادی کوممتحن (خالق کائنات)  کی پسند پر ترجیح دی،  اور اس کے حکم سے بغاوت کی وہ جس ذلت و رسوائی سے دو چار ہوا کسی سے بھی مخفی نہیں ہے۔

جگر مراد آبادی نے کہا تھا:

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجے

ایک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

اس کاںٔنات میں جس نے بھی اپنی قابلیت کا لوہا منوایا، اپنی صلاحیت کا ڈنکا بجایا، اپنی قلم و زبان کے ذریعے حکومت وقت کا تختہ پلٹ کر دکھایا، یقیناً ہر ایک نے خود کو آگ کے دریا سے گزارا ہے ،

دنیا کی ٹھوکروں کے سامنے خود  کو آہنی قلعہ ثابت کرکے دکھایا ، اور دنیا کو ببانگِ دہل اعلان کر کے بتایا کہ:

یہ قدم قدم بلائیں یہ سواد کوئے جاناں

وہ یہیں سے لوٹ جائے جسے زندگی ہو پیاری

سیدنا یوسف علیہ السلام ایک عام انسان کی حیثیت سے زندگی گزار رہے تھے لیکن جب امتحان میں ڈالے گئے اور انہوں  نے خود کو سنبھال لیا تو پھر 

دنیا نے  انہیں عفت و پاکدامنی کے مظہر اور صدق و صفا کے پیکر قرار دیا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام  کو دیکھیں کہ اُنہیں کس زبردست امتحان کا سامنا کرنا پڑا لیکن جب انہوں نے اس امتحان میں خود کو کامیاب کر دکھایا تو پھر ایسے بلند مقام سے نوازے گئے کہ پوری دنیا عش عش کرتی ہے۔

حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے قیامت برپا کردینے والی مصیبتوں کی راتیں صبر واستقامت کے پہاڑ بن کر گزاریں تو پھر دنیا نے انہیں جس عظمت وسطوت ،شان و شوکت کی نگاہ سے دیکھا وہ بس انہیں کا حصہ تھا۔

عزم و استقلال ہے شرط مقدم عشق میں

کوئی جادہ کیوں نہ ہو انسان اس پر جم رہے

اگر واقعی دنیا کو زیر کر دکھانا ہے، اپنی قابلیت کا لوہا منوانا ہے ،حسنِ ظن و ذکرِ خیر اپنے نام کے ساتھ سننے کا شوق رکھتے ہیں تو پھر  امتحان جیسے جاں گسل راستے سے گزرنے کے لئے خود کو ہمہ وقت تیار رکھیں ، قربانی جیسی عظیم چیزیں دینے کے لئے ہر آن تیار رہیں۔

ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا 

نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا

امتحان سے ہر گز نہ گھبرائیں، بلکہ ہر وقت تیار رہیں اور اس کا پورے  عزم و استقلال کے مقابلہ کریں، کیوں کہ یہی دستور کاںٔنات ہے ، اور أصول دنیا بھی کہ:

رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ گھس جانے کے بعد

پھر وہ دن دور نہیں کہ آپ کا ذکر خیر عام ہو، ہر سو ہر جانب آپ ہی کا ذکر گونج رہا ہو، غالب کی زبانی:

نہ ہوںٔی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی

امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی

زندگی مسلسل امتحان لیتی ہے یہاں بار بار گرنے کے بعد بھی اٹھ کھڑے ہونے کا نام  کامیابی ہے:

سنا ہے زندگی امتحان لیتی ہے فراز

پر یہاں تو امتحانوں نے زندگی لے لی